پاکستان کی آج کی اسلامی تاریخ 2026 | اسلامی تاریخ کیلنڈر
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ میری ویب سائٹ اردو ڈیٹ ( urdudate ) پر آپ کا خیر مقدم ہے۔ محترم دوستوں کیا آپ پاکستان کی آج کی اسلامی تاریخ کیا ہے؟ اس کی معلومات لینا چاہتے ہیں؟ تو آپ صحیح جگہ پر ہیں، آپ یہاں سے پاکستان میں آج کی اسلامی تاریخ کیا ہے؟ اسے دیکھ سکتے ہیں اور نیچے شمسی تقویم (گریگورین کیلنڈر) کا آغاز اور اس کی ضرورت سے متعلق معلومات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی آج کی اسلامی تاریخ 2026
01/ جنوری 2026/ مطابق11/ رجب بروز جمعرات
02/ جنوری 2026/ مطابق 12/ رجب بروز جمعہ
03/ جنوری 2026/ مطابق 13/ رجب بروز سنیچر
04/ جنوری 2026/ مطابق 14/ رجب بروز اتوار
05/ جنوری 2026/ مطابق 15/ رجب بروز پیر
06/ جنوری 2026/ مطابق 16/ رجب بروز منگل
07/ جنوری 2026/ مطابق 17/ رجب بروز بدھ
08/ جنوری 2026/ مطابق 18/ رجب بروز جمعرات
09/ جنوری 2026/ مطابق 19/ رجب بروز جمعہ
10/ جنوری 2026/ مطابق 20/ رجب بروز سنیچر
11/ جنوری 2026/ مطابق 21/ رجب بروز اتوار
12/ جنوری 2026/ مطابق 22/ رجب بروز پیر
13/ جنوری 2026/ مطابق 23/ رجب بروز منگل
14/ جنوری 2026/ مطابق 24/ رجب بروز بدھ
15/ جنوری 2026/ مطابق 25/ رجب بروز جمعرات
16/ جنوری 2026/ مطابق 26/ رجب بروز جمعہ
17/ جنوری 2026/ مطابق 27/ رجب بروز سنیچر
18/ جنوری 2026/ مطابق 28/ رجب بروز اتوار
19/ جنوری 2026/ مطابق 29/ رجب بروز پیر
20/ جنوری 2026/ مطابق 30/ رجب بروز منگل
21/ جنوری 2026/ مطابق 1/ شعبان بروز بدھ
22/ جنوری 2026/ مطابق 2/ شعبان بروز جمعرات
23/ جنوری 2026/ مطابق 3/ شعبان بروز جمعہ
24/ جنوری 2026/ مطابق 4/ شعبان بروز سنیچر
25/ جنوری 2026/ مطابق 5/ شعبان بروز اتوار
26/ جنوری 2026/ مطابق 6/ شعبان بروز پیر
27/ جنوری 2026/ مطابق 7/ شعبان بروز منگل
28/ جنوری 2026/ مطابق 8/ شعبان بروز بدھ
29/ جنوری 2026/ مطابق 9/ شعبان بروز جمعرات
30/ جنوری 2026/ مطابق 10/ شعبان بروز جمعہ
31/ جنوری 2026/ مطابق 11/ شعبان بروز سنیچر
شمسی تقویم کا آغاز اور اس کی ضرورت :
دور حاضر میں دنیا کے اکثر ممالک میں قمری تقویم ہجری کیلنڈر ( islamic calendar) کے سیدھے سادھے طریق کو چھوڑ کر شمی تقویم،گریگورین کیلنڈر (gregorian calendar) کو اپنایا جا رہا ہے۔ اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب انسان نے عبادت خانے تعمیر کیے تو ان کی آبادی و ترقی کے لیے وہاں پروہت ( مذہبی پیش وا) بھی مقرر ہوئے۔ ان کی گزران کے لیے ان کی محنت کا معاوضہ نذرانوں کی صورت میں پیش کیا جاتا تھا۔
مذہبی تہوار آہستہ آہستہ میلوں ٹھیلوں کی شکل اختیار کر گئے اور نذرانوں کی وصولی کا وقت یہی مذہبی تہوار یا میلے ٹھیلے ہوا کرتے تھے۔ پروہتوں نے ہی لوگوں پر یہ پابندی عائد کر دی کہ وہ اپنی زرعی پیداوار کا ایک حصہ پروہتوں کی خدمت میں بطور نذرانہ پیش کیا کریں اور بت خانوں پر چڑھاوے چڑھایا کریں۔
ظاہر ہے کہ قمری مہینے یعنی (islamic months) اسلامی مہینے ایسے نذرانوں اور رسوم کا ساتھ نہیں دے سکتے تھے۔ کیونکہ ہر تین قمری سال بعد فصلوں کی تیاری میں ایک ماہ کا فرق آ جاتا تھا۔ اس مشکل کو حل کرنے اور اپنا مطالب نکالنے کے لیے قمری مہینوں اسلامی مہینوں میں پیوند کاری کی گئی جسے عربی میں کبیسہ، انگریزی میں لیپ اور ہندی میں لوند کہا جاتا ہے۔
اور یہی چیز شمسی تقویم،گریگورین کیلنڈر (gregorian calendar) کی بنیاد ثابت ہوئی ۔ گویا اس کے اصل محرک وہ مذہبی پیش وایا پروہت تھے جنہوں نے محض اپنے پیٹ کی خاطر مذہب کی آڑ میں مذہب اور فطرت سے بے وفائی کی۔